Breaking News

header ads

دوبارہ میں جنسی ہراسانی کا ‘ڈرامہ’ رچانے پر شائقین برہم

حدیقہ کیانی اوربلال عباس خان کاآن ائرڈرامہ سیریل دوبارہ ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک ایسے وقت میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا جب اسکرین پروہی پرانے مسائل زدہ اوردقیانوسی بیانیوں سے جڑی کہانیوں کا غلبہ تھا، لیکن اب لگتا ہے کہ ناظرین کی بھرپورتوجہ سمیٹںے والا یہ ڈرامہ بھی اسی راستے پرگامزن ہے۔

عموماًزیادہ ترڈراموں میں کہانیاں شادی شدہ خواتین کے گرد ہی گھومتی ہیں جو سسرال والوں کے ہاتھوں گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں، یا پھر جوڑے کے ارد گرد رہنے والوں کی طرف سے مسلسل پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی وجہ سےشوہروں کی بدسلوکی کا سامنا کرنے کے بعد بالآخر طلاق ہو جاتی ہے، بعض کیسزمیں ایسی صورتحال دکھائی جاتی ہے کہ خواتین کو ہنسی خوشی دوبارہ ایسے شخص کے پاس واپس جانے میں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

لیکن دوبارہ اپنے آغازسے ہی کچھ مختلف رہا، منفرد کاسٹ کےعلاوہ سب سے اہم بات یہ رہی کہ اس ڈرامے کی کہانی بہت سے لوگوں کو پاکستانی ٹیلی ویژن کے لیے ترقی پسند اورچیلنجنگ لگی۔

دوبارہ میں حدیقہ کیانی ایک بیوہ (مہرالنساء) کاکرداراداکررہی ہیں، جو اپنے شوہر(نعمان اعجاز) کی موت کے بعد اپنی زندگی اپنی شرائط پر گزارنے کے لیے آزاد ہے۔ ڈرامے کی کہانی مہرالنساء کی سیریل جدوجہد اوراس مخالفت کے گرد گھومتی ہے جس کا اسے اپنے خاندان اور معاشرے دونوں کی جانب سے سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ خود سے عمرمیں بڑے شوہرکے انتقال کے بعد خود کو دریافت کرتے ہوئے اپنی خواہشات کا تعاقب کرتی ہے اورمرحوم شوہرکی جانب سےعائدکی جانے والی تمام پابندیوں کا خاتمہ کردیتی ہے۔

بہت چھوٹی عمرمیں خود سے کہیں بڑے شخص سے شادی کے بعد خود کو کھودینے والی اب اپنی نئی زندگی کا آغازایک دلکش نوجوان ماہر(بلال عباس ) کے ساتھ شروع کرتی ہےجو اس کی امنگوں کی قدرکرتے ہوئے اسے جیت جاتا ہے، مہرو کے بچے اس صورتحال سے بہت مایوس ہیں لیکن وہ اہنی زندگی میں دخل کی اجازت کسی کو نہیں دیتی۔

یوٹیوب پربھی بہت اچھی ریٹنگ لانے والے اس ڈرامہ نےثابت کیا کہ روایتی ڈگرسے ہٹ کربنایا گیا کانٹینٹ بھی ہٹ ہوسکتا ہے لیکن تازہ قسط نے ایسے بہت سے ناظرین کو مایوس کیا جواس ڈرامے کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا دیکھنا چاہتے تھے۔

دوبارہ کی قسط نمبر 23 میں مہرو کی بہو سحر نے ماہرکو گھرسے نکالنے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت اس پر جنسی ہراسانی کا الزام عائدکیا ( یہ منصوبہ مہرو کی نند نے بنایا تھا)، یہ منظردیکھنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے بھرپورغم وغصے کااظہارکیا۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف آواز اٹھانے پرمخالفت، دھمکی اور نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں ڈراموں میں یہ سب دکھانے پراس سوچ کو پروان چڑھایا جارہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔

ثروت نذیرکے تحریرکردہ اس ڈرامے کو مومنہ درید نے پروڈیوس کیا ہے، یہ ہربدھ کو ہم ٹی وی پرنشرکیاجاتا ہے۔



from SAMAA https://ift.tt/XK3Sgbu

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے