Breaking News

header ads

پاکستان بھر میں انٹر نیٹ سروس متاثر

ملک بھر میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ پاکستان ( پی ٹی سی ایل) ( PTCL ) کی سروسز میں خرابی کی شکایات موصول ہونے کے بعد خرابی دور کرنے کیلئے کام شروع کردیا گیا ہے۔

پاکستان میں جمعہ 19 اگست صبح 9 بجے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ پاکستان ( پی ٹی سی ایل) کی سروسز میں خرابی کی 800 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔

موصول شکایات پر ترجمان پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ پاکستان ( پی ٹی سی ایل) کا کہنا ہے کہ ملک میں بارشوں اور سیلاب کے باعث شمالی اور وسطی حصوں میں پی ٹی سی ایل کے آپٹیکل فائبر نیٹ ورک میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے، خرابی کی وجہ سے صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی میں تعطل کا سامنا ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہماری ٹیمیں صارفین کی سہولت کے لیے انٹرنیٹ سروس کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر جاری بیان کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ( PTA ) کی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق سوشل میڈیا صارفین نے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ ڈاؤن کے مسائل کی اطلاع دی ہے، ڈاؤن ڈیٹیکٹر کو اب تک بندش کی تقریباً 800 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ جس کے سدباب کیلئے کام جاری ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق سوشل میڈیا صارفین نے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ ڈاؤن کے مسائل کی اطلاع دی ہے، ڈاؤن ڈیٹیکٹر کو اب تک بندش کی تقریباً 800 شکایات موصول ہوئی ہیں۔ جس کے سدباب کیلئے کام جاری ہے۔

واقعہ کی نشاندہی کے مطابق پی ٹی سی ایل، زونگ اور انٹرنیٹ ڈاؤن ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔

انٹرنیٹ، فون اور موبائل نیٹ ورک میں خرابی کی خبریں سامنے آنے پر وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے پی ٹی اے اور پی ٹی سی ایل حکام کو نیٹ ورک خرابی فوری دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خرابی کے تعین اور اس کی فوری درستگی کے امور کو فعال ہونا چاہیئے۔ انٹرنیٹ، فون اور موبائل نیٹ ورک میں خرابی سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

امین الحق نے یہ بھی کہا کہ خرابی کی وجہ سے صارفین کو انٹرنیٹ کی فراہمی میں صبح سے تعطل کا سامنا ہے۔ جس پر پی ٹی ایل حکام نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیمیں صارفین کی سہولت کے لیے انٹرنیٹ سروس کو ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں۔



from Samaa - Latest News https://ift.tt/tITwnHb

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے