وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم نے مشکل وقت میں بجٹ پیش کیا، اس سال 4598 ارب کا مالی خسارہ ہے۔
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک مشکل وقت میں بجٹ دیا ہے، ملک مشکل صورت حال کا شکار ہے، اتنا گمبھیر اور مشکل وقت کبھی نہیں دیکھا۔
وزیرخزانہ نے بتایا کہ اس سال 4598 ارب کا مالی خسارہ ہے، 4 ہزار ارب سود کی ادائیگی پر چلے جائیں گے، وفاق کے پاس صرف ایک ہزارروپے بچتے ہیں، باقی رقم صوبوں کو چلی جائے گی، ہمیں اٹیک پرجاناہوگا، مشکل فیصلے لینے پڑیں گے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ملک کو ٹھیک کرنا ہوگا ورنہ معیشت نہیں چلے گی، ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمیں دوسرے ممالک میں جانا پڑتا ہے، ہمیں اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے، ہم وہ خرچے برداشت نہیں کرسکتے جس کی گنجائش نہیں، اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے، پھر بھی اس سال 1100 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی بجلی صارفین کو دی گئی، اس کے علاوہ گردشی قرضے میں 500 ارب روپے اضافہ ہوا، ہم نے بجلی سستی کرنے کیلئے 16 روپے فی یونٹ سبسڈی دی، جب کہ 30 سے 35 روپے فی یونٹ بجلی بنا رہے ہیں، عوام کو 24 روپے تک پڑ رہی ہے، بجلی ٹرانسمیشن لائن میں خرابیاں اور بل وصولی میں مسائل ہیں، اس شعبے میں 1600 ارب روپے کے نقصانات ہیں۔
وزیرخزانہ کے مطابق گیس سیکٹر میں 400 ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں، 20 ڈالر کی گیس لے کر ایک یا دو ڈالر میں دے رہے ہیں، کون ہے وہ جو 14روپےکی گیس لےکر 2 روپے میں بیچے، دیگر ملکوں میں گیس پر سبسڈی دی جائےگی توہم بھی دیں گے، یہ ملک اور معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، 1600 ارب کا نقصان دفاعی بجٹ سے زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا، 1400 ارب کا گیس میں سرکلر ڈیٹ کیاگیا، ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی، ہر سال2.4ارب ڈالرگیس سیکٹرمیں نقصان ہو رہاہے، فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی، اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ، ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں، ہم مسائل حل کرنے کے بجائے بڑھاتے رہے۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جارہے، اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں، گیس اور پاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے، کوشش کی کہ امیر لوگوں کا حصہ ملک کو مشکل سے نکالنے میں استعمال کریں ، خوردنی تیل کا مسئلہ ہے، وزیر اعظم نے انڈونیشیا کے صدر سے بات کی، پرسنل انکم ٹیکس کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
from Samaa - Latest News https://ift.tt/PZhHA9x


0 تبصرے