Breaking News

header ads

صحافی اطہر متین کا قتل: مزید ویڈیوز سامنے آگئیں

کراچی میں سما کے سینیر پروڈیوسر اطہر متین کے قتل کے دو روز بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن نے واردات میں منشیات فروشوں کے ملوث ہونے کا شہبہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب واردات کی مزید ویڈیوز سامنے آگئی ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے واقعہ کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ حملے کے شہبے میں 3 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جب کہ جائے وقوعہ پر موجود تمام شواہد بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زیر حراست افراد سے تفتیش جاری ہے، جلد کیس میں مزید چیزیں واضح ہونگی۔ اس موقع پر انہوں نے شہبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے حملہ آور منشیات فروش ہوں۔ دوسری جانب فرانزک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی پستول پہلے کسی واردات میں استعمال نہیں ہوئی۔

نئی سی سی ٹی وی ویڈیو

کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل ہونے والے سینیر صحافی اطہر متین کے قتل کی مزید فوٹیج سامنے آگئی ہیں۔ ویڈیو میں ڈاکوؤں کی جانب سے کی گئی فائرنگ کی آواز واضح سنی جا سکتی ہے۔ شہید اطہر متین کو فائرنگ کے بعد گاڑی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ فائرنگ کے فوری بعد شہری گاڑی کے قریب جمع ہوئے۔ ویڈیو میں لوگوں کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ ابھی زندہ ہے کوئی اسپتال لے کر چلے۔ بعد ازاں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت شہید اطہر متین کو ڈرائیونگ سیٹ سے ہٹايا اور اسپتال لیکر گئے۔


واضح رہے کہ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں جمعہ 18 فروری کو ڈکیتی مزاحمت کے دوران قتل ہونے والے سینیر صحافی اطہر متین کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی طارق متین کی مدعیت میں نارتھ ناظم آباد کے پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی، قتل اور ڈکیتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں جاں بحق سما ٹی وی کے سینیر پروڈیوسر کو ہفتے کے روز یاسین آباد قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اطہر متین کی نمازِ جنازہ کلفٹن بلاک 5 کی مسجد صدیق اکبر میں ادا کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے صحافی اطہر متین کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

قبل ازیں غلام بنی کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں منشیات کے عادی افراد کی بڑی تعداد ملوث ہوتی ہے، منشیات کی روک تھام کے لیے جاری مہم میں مزید بہتری اور منشیات کے مقدمات میں پکڑے گئے ملزمان کے خلاف مضبوط کیس بنائے جائیں، شہر میں ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے لیے شفاف پالیسی ترتیب دی گئی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔


ایک اندازے کے مطابق کراچی میں ڈیڑھ ماہ میں مختلف وارداتوں میں صحافی اطہر متین اور پولیس اہلکار سمیت 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کراچی میں ہر روز 145 شہریوں کو موٹرسائیکلوں سے محروم کردیا جاتا ہے۔

کاز وے لوٹ مار

گزشتہ روز ہفتہ 19 فروری کو بھی کراچی کی ملیر ندی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا کاز وے پر رات گئے مسلح ملزمان نے ٹریفک جام کے دوران شہریوں سے لوٹ مار کی، تاہم پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی ملزمان فرار ہوگئے۔ مقامی میڈیا نمائندوں کی لائیو کوریج کرنے والی گاڑی بھی اس طرف موجود تھی، تاہم بڑی گاڑی ہونے کی وجہ سے یہ افراد واردات کا نشانہ بننے سے محفوظ رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ملزمان کی تعداد 6 سے 8 تھی، جو مسلح تھے، جنہوں نے بیچ سڑک پر کھڑے ہو کر شہریوں سے لوٹ مار کی۔ ملزمان نے شہریوں سے موبائل فون، نقد رقم اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق شادی میں شرکت کے لیے جانے والی ایک فیملی سے بھی ملزمان نے لوٹ مار کی اور ایک خاتون سے بدتمیزی کی۔

موقع پر موجود افراد کے مطابق پولیس کے پہنچنے سے قبل ٹریفک جام بھی ختم ہو گیا تھا اور ملزمان بھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ کراچی کے علاقے بلوچ کالونی سے کورنگی انڈسٹریل ایریا کو جانے والے کاز وے پر اس طرح کی وارداتیں عام ہو کر رہ گئی ہیں۔



from SAMAA https://ift.tt/sZXWRK0

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے