سپریم کورٹ نے توہین کی کارروائی سے متعلق الیکشن کمیشن کے اختیار پر تحريک انصاف کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بينچ نے الیکشن کمیشن کی پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درخواستیں نمٹا دیں۔

عدالت نے قرار ديا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق ان کو لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف حکم دینے سے روک رکھا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی سے نہیں حتمی فیصلے سے روکا ہے۔

عدالت عظمٰی نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رہے گی۔ شوکاز نوٹس جاری کرنے سے پہلے پی ٹی آئی قیادت کے اعتراضات پر فیصلہ کیا جائے۔

سپريم کورٹ نے ہائی کورٹس کو توہین الیکشن کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کی بھی ہدايت کردی۔

الیکشن کمیشن نے اگست اور ستمبر کے دوران پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور پارٹی رہنماؤں اسد عمر اور فواد چوہدری کو آئینی ادارے کے خلاف نا زیبا زبان استعمال کرنے پر توہین کے نوٹس جاری کیے تھے۔

پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بجائے نوٹسز اور توہین کی کارروائی کو ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کردیا۔

اعلٰی عدلیہ میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کو توہین کی سزا دینے کے اختیارات سے متعلق الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 10 خلاف آئین ہے۔



from Samaa - Latest News https://ift.tt/adYx4AC